آستان نیوز کے مطابق آيت اللہ مروی نے میناب اسکول کے شہدا ریحانہ اور مہدی ذاکری کے اہل خانہ اور محاذ جنگ کے لئے روانہ ہونے والے حرم کے خدام سے ملاقات میں میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے شہدا کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کرتے ہوئے ان شہدا کو ایرانی عوام کے لئے عظیم سرمایہ قراردیا اور کہا کہ کبھی ایک انسان کی عمر بظاہر بہت کم ہوتی ہے لیکن اس کی زندگي کا اثر اور برکت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ تاریخ میں جاودانی ہوجاتی ہے اور ایک پورے معاشرے کا راستہ تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے
عظیم انسان چھپے ہوئے خزانے کی مانند ہوتے ہيں
آیت اللہ مروی نے عظیم انسانوں کی اقدار کو بیان کرنے کے لئے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ روئے زمین پر بعض زمین کے ٹکڑے ظاہری طور پر چھوٹے نظر آتے ہیں لیکن اپنے اندر عظیم اور قیمتی ذخائر رکھتے ہيں ؛ اس طرح کی زمین کی قدر و قیمت اس کے ظاہری حصے کو دیکھ کرنہيں لگائی جاسکتی بلکہ وہ خزانے اور ذخائر ہيں جو زمین کے اس ٹکڑے میں چھپے ہوئے ہوتے ہيں ۔ اسی طرح انسان بھی ہیں ؛ بعض افراد شاید برسوں تک زندہ نہ رہيں ، ان کی زندگي طولانی نہ ہو لیکن ان کی زندگي ، قدر و قیمت اور برکت سے سرشار ہوتی ہے اور ان کے اثرات تاریخ میں ہمیشہ باقی رہتے ہيں ۔
آيت اللہ احمد مروی نے کہا کہ آپ کے عزیز شہدا بھی اسی طرح ہیں ایسے بچے کہ جن کی عمریں اگرچہ ظاہری طورپر بہت کم تھیں لیکن ان کے پاک خون نے معاشرے میں ایسے اثرات مرتب کئے ہیں کہ پوری دنیا کے بیدار وجدان کو اپنی جانب متوجہ کرلیا ہے۔
شہدا کے خون نے انسانی حقوق کے دعویداروں کے حقیقی چہرے بے نقاب کردئے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے عالمی رائے عامہ میں سانحہ میناب اسکول کے وسیع انعکاس اور ردعمل کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اور تسلط پسند طاقتوں کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے دکھانے کے لئے ہزاروں گھنٹے تشہیرات میں صرف اور ذرائع ابلاغ میں خطیر رقم خرچ کرتے تو بھی شاید اتنی جلدی امریکا اور تسلط پسند طاقتوں کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں ہوسکتا تھا لیکن ان بچوں اورنوجوانوں کی مظلومانہ شہادت اور خون نے حقیقت کوبرملا کردیا اور ثابت کردیا کہ انسانی حقوق ، آزادی اور ڈیموکریسی کے زرق و برق نعروں کے پیچھے کون سی حقیقت چھپی ہوئي ہے
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے بہت سے لوگ اچھی طرح دیکھ رہے ہیں کہ انسانی حقوق کے دعویدار کس طرح اس گھناؤنے جرم کے سلسلے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہيں یہی رویّہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ ان طاقتوں کا حقیقی چہرہ عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب ہوجائے
شہدا کا خون معاشرے کو بیدار اور عظیم رہنماؤں کی تربیت کرتاہے۔
آیت اللہ احمد مروی نے شہید کے پاک خون کے تاریخی اور سماجی اثرات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ پوری تاریخ میں شہدا کا خون ہمیشہ قوموں کی بیداری کا باعث رہا ہے کبھی شہید کے خون کا ایک قطرہ معاشرے میں بڑا انقلاب پیدا اورپوری ایک قوم کے راستے کو بھی تبدیل کرسکتا ہے جس طرح سے رہبرشہید عظیم الشان کے خون نے معاشرے ميں ایک نئی جان پھونک دی
آستان قدس رضوی کے متولی نے مکتب عاشورا سے شہادت کی ثقافت کے رشتے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ قرآن اور اہل بیت علیھم السلام کی منطق میں شہید کبھی مرتا نہیں ہے بلکہ زندہ رہتا ہے اور وہ اپنے پروردگار کے حضور روزی پاتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید کے خون کا اثر کسی خاص زمانے تک محدود نہيں ہوتا بلکہ پوری تاریخ میں وہ خون جاری رہتا ہے اور حق و انصاف کی جانب قوموں کی رہنمائی کرتا ہے
انہوں نے کہا کہ جس طرح شہدائے کربلا کا خون صدیاں گزر جانے کے بعد بھی بدستور دنیا کے حریت پسندوں کے لئے الہام بخش ہے عصرحاضر کے شہدا کا خون بھی معاشرے میں جنب وجوش پیدا کرسکتا ہے اور ساتھ ہی قوموں کے اندر استقامت ، عزت اور ثابت قدمی کی روح بھی زندہ رکھ سکتا ہے
گناہ سےآلودہ دنیا، شہادت کی منطق درک نہیں کرسکتی
آیت اللہ مروی نے اپنے خطاب میں ایثار و شہادت کی ثقافت اور مادی معاشرے کے نظرئے کے مابین فرق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں بہت سے معاشرے لذت پسندی ، دنیا پرستی ،اور الہی اقدار سے غفلت میں مبتلا ہیں ايثآر اور شہادت کی منطق کو سمجھنا آسان نہيں ہے ایسے معاشرے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ کس طرح باایمان اور مومن انسان حق اور الہی اقدار کے دفاع کے لئے اپنی جان فدا کردیتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ لیکن اسلامی ثقافت و تعلیمات میں ، شہادت، اوج بندگی اورایمان کے اعلی ترین درجے کی نشانی ہے اور شہدا اس اعلی مقام کی بدولت خداوندعالم کے حضور بہت ہی اعلی اور بلند مرتبے پر فائز ہیں ۔
شہدا کے اہل خانہ کا صبر معاشرے کے لئے بڑا سرمایہ ہے
آستان قدس رضوی کے متولی نے شہدا کے اہل خانہ کے صبر و استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے اہل خانہ اپنے صبر و ایمان کے ذریعے شہدا کے راستے کو جاری رکھنے میں اہم کردار کے حامل ہیں اور اسلامی معاشرہ ہمیشہ شہدا کے خون اور ان کے اہل خانہ کے صبر و استقامت کا مرہون منت رہتا ہے اور آج ایران کی استقامت شہدا کے اہل خانہ کے صبر و ایمان کی ہی بدولت ہے
جوان نسل میں شہدا کی یاد زندہ رکھنے کی ضرورت
آیت اللہ مروی نے معاشرے میں ایثار و شہادت کی ثقافت کی ترویج کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ شہدا کی یاد کو جوان نسل میں زندہ رکھیں اور ایک زندہ اور الہام بخش ثقافت میں اس کو تبدیل کریں ۔
یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ شہید اسکولی بچے ریحانہ اور مہدی ذاکری ہر سال گرمیوں کی تعطیلات میں اپنے گھر والوں کے ہمراہ مشہد مقدس کا سفر کرتے تھے اور اس سفر میں وہ اپنے غلک میں جمع کئے ہوئے پورے ایک سال کے پیسوں کو امام رضا علیہ السلام کے حرم میں بطور عطیہ دیتے تھے لیکن اس سال ان بچوں کی شہادت کے بعد ان کے والدین نے ان کے غلک کے پیسے امام رضا علیہ السلام کے حرم کے متولی کی موجودگی میں حرم کو عطیہ کیا ۔